پٹنہ4نومبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) بہار کے نائب وزیراعلیٰ سشیل مودی چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ جلدازجلدایودھیامعاملے پر سماعت کرکے فیصلہ دے؛ سشیل مودی نے پٹنہ میں سردار پٹیل جینتی اورکرشک سمان تقریب میں سپریم کورٹ پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیرکروڑوں ہندوؤں کی خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ آدھی رات میں کرناٹک حکومت سے منسلک فیصلے کر سکتی ہے، ہم جنس پرستی پر فیصلہ کر سکتی ہے تو پھر رام مندر کا معاملہ سالوں سے عدالت میں کیوں التوا میں پڑاہے ۔
سشیل مودی نے بار بار اپنی تقریر میں کہا کہ اس ملک کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اس معاملے کی سماعت شروع ہونے کے بعد اس کو ٹال کیوں دیا؟ سشیل مودی نے اپنی تقریر میں نہ صرف سپریم کورٹ کو کروڑوں ہندوؤں کے جذبات کے مطابق فیصلہ دینے کامشورہ دیا، بلکہ مسلم معاشرے کے لوگوں کو بھی یہ مشورہ دیا کہ اس جگہ پر مسجد بنانے کی ضد چھوڑ دیجیے، کیونکہ مسجد کہیں بھی بن سکتی ہے؛لیکن رام مندر کہیں اور نہیں بن سکتا۔ کیونکہ رام کی جائے پیدائش وہیں ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کا رخ اس مسئلے کونہیں چھیڑنے کا ہے۔ جے ڈی یو اس مسئلے کاحل کورٹ کے فیصلے یا متفقہ طور پر چاہتی ہے۔ اگرچہ سشیل مودی اپنے ساتھی پارٹی کے اس موقف کے باوجود اس معاملے میں بیان دے کر کود گئے۔ سشیل مودی کے اس بیان سے لگ رہا ہے کہ بہار کے رہنماؤں کے ایودھیا معاملہ پر جارحانہ موقف سے صاف ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ اس مسئلے کے آڑ میں وہ کئی وجوہات سے ناراض چل رہے اعلیٰ ذاتوں کے غصے کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔